لکھنؤ25 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا میں بی جے پی اترپردیش میں بھلے ہی 9 ویں نشست جیت گئی ہے لیکن اس کی یہ جیت بڑی مصیبت بن سکتی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بی ایس پی امیدوار بھیم راؤ امبیڈکر کی شکست کو اب مایاوتی نے اسے ا پنے وقار سے وابستہ کرلیا ہے ا ور اس کا بدلہ لینے کے لئے وہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ اس سے بھی تعلق مضبوط کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی ۔ اس بات کے قیاس پہلے بھی لگائے جا رہے تھے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں شکست سے کیا ایس پی اور بی ایس پی کی نئی دوستی پر اثر پڑے گا؟ بی ایس پی لیڈر ستیش چندر مشرا نے نتیجہ آنے کے بعد ہی میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ ان کی پارٹی کی جانب سے ایس پی اور کانگریس سے کوئی شکایت نہیں ہے۔دونوں ہی پارٹیوں نے اپنے ووٹ بی ایس پی امیدوار کو دلوائیں ہیں لیکن بی جے پی ایک دلت کو ہرانا چاہتی تھی۔ ہفتہ کی شام مایاوتی نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں جو کچھ بھی ہوا اس کا کوئی اثر ایس پی بی ایس پی کے اتحاد پر ہرگز نہیں پڑے گا، یہ آگے بھی جاری رہے گا۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات میں پیسے کی طاقت اور سرکاری مشینری کا غلط استعمال کیا ہے ۔ بی جے پی نے یہ سب اس لئے کیا تاکہ ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان ایک بار پھر فاصلے قائم ہوں ۔ مایاوتی نے کہا کہ میں صاف کر دینا چاہتی ہوں کہ ایس پی بی ایس پی کا میل اٹوٹ ہے۔ بی جے پی گیسٹ ہاؤس کے بہانے ہمارے اور اکھلیش کے درمیان دراڑ پیدا کرنا چاہتی ہے؛ لیکن ان کی یہ برہمنی چال خود ان کے لیے ہی آفت کا سبب ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ گیسٹ ہاؤس سانحہ کے وقت جو پولیس افسر دارالحکومت میں تعینات تھے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت ریاستی پولیس کا سربراہ ڈی جی پی بنا دیا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے اتحاد سے سیاسی مساوات اور ووٹوں کے حساب پر نظر ڈالیں تو یہ بی جے پی کے لحاظ سے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے تقریبا 41 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 300 سے زیادہ سیٹیں جیتیں۔ یہ اس کا اب تک بہترین مظاہرہ تھا۔ وہیں بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے ایس پی کو 28 فیصد اور بی ایس پی کو 22 فیصد کے قریب ووٹ ملے۔ اگر دونوں ہی پارٹیوں کے ووٹوں کو ملا دیا جائے تو 50 فیصد ہو جاتا ہے۔ مطلب بی جے پی کے ووٹ سے قریب 9 فیصد زیادہ۔اور یہ اعداد و شمار بی جے پی کی نیند حرام کردینے کے لیے کافی ہیں ۔